کولکاتہ ،5؍اکتوبر(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا) سرحد حفاظتی دستہ ( بی ایس ایف ) نے مغربی بنگال سے متصل بھارت، بنگلہ دیش سرحد پر ملک میں روہنگیائی مسلمانوں کے غیر قانونی داخلے کو روکنے کے لئے ’ حساس ‘ مقامات پرنگرانی سخت کر دی ہے ۔بی ایس ایف کے سربراہ (جنوبی بنگال) پی ایس آر انجنے یولو نے بتایا: ہم پہلے ہم 22حساس مقامات کی شناخت کی تھی لیکن اب یہ تعداد بڑھ کر 50 ہو گئی ہے ،یہ جگہ حساس ہیں۔ جہاں سے بنگلہ دیشی اور روہانگیا دونوں ہی در اندازی کا ارتکاب کر سکتے ہیں ؛ لہذا ہم نے اپنی نگرانی سخت کر دی ہے ۔ مذکورہ حساس علاقوں میں پیترا پول ،جینتی پور ، پور، ہر داس پور، گوپال پارا اور تیتل برائی بھی شامل ہیں۔جنوبی بنگال بی ایس ایف آفیسر کے مطابق گذشتہ ماہ کے دوران 175روہنگیائی مسلمان کو پکڑا ہے اس کے علاوہ سال کے اوائل میں بھی سات روہنگیائی مسلمانوں کو پکڑا گیا ہے ۔ روہنگیائی مسلمان کی شناخت کرنے اور ان کا پتہ لگانے کیلئے مقامی مخبروں کاجال بھی علاقہ میں وسیع کر دیاگیا ہے ۔ بھارت اور بنگلہ دیش سرحد کی مجموعی لمبائی 4,096 کلومیٹر ہے جس میں 2126کیلومیٹر لمبائی مغربی بنگال کے علاقوں بھی ضم ہے ۔روہنگیا ئی پناہ گزینوں کو مرکزی حکومت نے 18 ستمبر کو عدالت عظمی میں غیر قانونی طور پر رہائش اختیار کرنے کی وجہ سے قومی سلامتی کے لئے خطرہ پیدا ہوتا ہے۔ واضح ہوکہ ماہ اگست سے جاری بدترین خون ریزی اور انسانیت سوز مظالم کے بعد روہنگیائی مسلمان مہاجر بنگلہ دیش اور بھارت میں پناہ کیلئے آرہے ہیں جنہیں بھارت سرکار قومی سلامتی کے لئے خطرہ قرار دے رہی ہے اور جو روہنگیائی مسلمان بنگال اور ملک کے مختلف شہروں میں پناہ گزین ہیں انہیں رخائن بھیجنے پر اصرار کر رہی ہے جب کہ ان روہنگیائی مسلمان کے خلاف اب تک کسی طرح کا کوئی مجرمانہ ریکارڈ نہیں ہے۔ تا حال ملک کی مشہور ملی تنظیم جمعیۃ علماء ہند نے حکومت کے اس سخت موقف کو انسانی جذبہ کے تحت عدلیہ میں چیلنج بھی کیا ہے؛ لیکن حکومت اپنے اصرار پر قائم ہے ،حکومت کا کہنا ہے کہ وہ قومی سلامتی کے لئے خطرہ ہیں ؛ لہذا ان کا بھارت میں قیام دشوار ہے ۔ اقوام متحدہ نے بھی برما حکومت کو سخت نوٹس بھیجا ہے اور آنگ سان سوچی سے امن نوبیل انعام بھی واپس لے لیا گیا ہے مزید برآں آکسفورڈ یونیورسٹی میں آویزاں سوچی کی تصویر بھی ہٹالی گئی ہے۔ دنیا کے تمام خطہ میں سوچی اور موجودہ برماحکومت کے سفاکانہ ہٹ دھرمی کے خلاف احتجاجی مظاہرے بھی کئے جار ہے ہیں ۔